بدھ، 16 اپریل، 2014
دوسرا حصہ : مجھے اپنے رنگ میں رنگ دے
میں کون ہوں؟ کھلکھلاتا، مسکراتا، ناچتا گاتا، زندگی کو کھل کر جینے والا ایک نوجوان. میں نے جب سے ہوش سمبھالا مجھے یہی سبق ملا کہ مجھے اپنے مستقبل کو اچھا بنانا ہے. میرے والدین جب بھی ناشتے یا کھانے کی میز پر ملتے تو گفتگو کا موضوع ہوتا، ڈالر کے اتار چڑھاؤ، شہر کے حالات اور اس سے نقصان ہوتا ہمارا کاروبار، ہماری پڑھائی کا پوچھا جاتا اور اس سب میں ہمیں بتایا جاتا کہ اگر ہم اچھا نہیں پڑھیں گے تو اس سے کیا نقصان ہوگا مثلاً اچھی نوکری نہیں ملے گی، اچھی نوکری نہیں ہوگی تو مالی آسودگی نہیں ہوگی اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ گھر نہیں چلے گا وغیرہ وغیرہ. شاید آپ میں سے بہت سے لوگ یہ سب پڑھ کر یہی کہیں کہ "یہ سب تو نارمل ہے" تو جناب میں بھی اسے نارمل ہی سمجھتا تھا، یہی تھی میری زندگی ، ناچتی گاتی، دنیا میں مشغول ... لیکن کچھ حالات ایسے پیش آئے کہ میرا زندگی کے حوالے سے تصور ہی بدل گیا...
پیر، 7 اپریل، 2014
پہلا حصہ : مجھے اپنے رنگ میں رنگ دے
سنسان سڑک پر گاڑی کے بریک چرچراتے ہیں کسی حادثے کی وجہ سے نہیں، بلکہ سڑک پر بیٹھے ہوئے ایک شخص کو دیکھ کر، شاید اسے بچانے کیلئے یا پھر گاڑی کے بمپر کو خون کے دھبّوں سے بچانے کیلئے. لیکن یہ شخص کون ہے؟ یہ میں ہوں لیکن میں ہمیشہ سے اتنا مایوس نہیں تھا لیکن کن حالات نےمجھے یہاں تک پہنچایا اس کیلئے آپکو میرے ساتھ میرے ماضی میں جھانکنا پڑیگا.
پیر، 10 مارچ، 2014
رنگ میں رنگ دے
میں لکھتا اس لئے ہوں کیوں کہ میں سمجھتا ہو کہ اس ذریعہ سے میں اپنی بات اپنے مخاطبین تک بہتر طور پر پہنچا سکوں گا. بعض افراد کسی خاص، واقعہ، عمل یا ردّعمل پر "بات" کرنا پسند کرتے ہیں اور اس کیلئے وہ جس محفل میں بیٹھتے ہیں وہاں اپنے جذبات کا اظہار اپنی زبان سے کردیتے ہیں. میں اس ہی طرح اپنی رائے کا اظہار "لکھ" کر اپنے الفاظ کے ذریعہ کرتا ہوں.
"اقراء" سے ہماری اسلامی تعلیم کا آغاز ہوا. قرآن کی نازل کردہ پہلی آیت کا پہلا لفظ "پڑھو" ہے اور اس کے فوراً بعد کی آیت میں قلم کا ذکر ہے. مجھے اس لئے لگتا ہے اس لکھنے کی بدولت میرا دین سے رشتہ زیادہ مضبوط ہوگا.
"لکھنا" میرا شوق تھا اور ہے اور رہے گا، چند افراد اور اداروں کی پزیرائی نے اس کو جِلا بخشی، مطالعہ نے اس میں بلوغت پیدا کی، حالات و واقعات نے اس میں جنون کی آمیزش بھی کی. لیکن یہ تو شروعات کا بھی ابتدائی مرحلہ ہے اور اس کی آخری حد شاید ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے. لیکن میں اپنے اطراف میں وقوع پزیر ہونے والے لمحوں کو قلمبند ضرور کرنے کی کوشش اپنی حد تک کروں گا. اور اس کی تقسیم و ترویج کیلئے مجھے قارئین کا تعاون یقیناً درکار ہوگا. میرے جذبات کی "قدر" کرنے کا شکریہ! جزاک اللہ!
ابنِ سیّد
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)